جمعہ 17 جولائی 2026 - 12:22
دینی طالبات، مزاحمت اور اربعین کے پیغام کی اصل راوی ہیں: محترمہ سارا طالبی

حوزہ/حوزہ ہائے علمیہ (خواتین) کی معاون برائے ثقافتی و تبلیغی امور، محترمہ سارا طالبی نے جہادِ تبیین میں خواتین کے بے مثال کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سال کا عظیم اربعین، ملتِ ایران کی عاشورائی روایت کا تسلسل، محاذِ مقاومت کی کامیابیوں کی وضاحت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مظہر ہونا چاہیے۔ اس میدان میں حوزہ علمیہ کی طالبات پر ایک خصوصی اور اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سارا طالبی نے اربعین 2026 کے مبلغین کے قومی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں اربعین میں انقلابِ اسلامی کی علامتوں کی موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھائے جاتے تھے، لیکن رہبرِ شہیدِ انقلاب اسلامی کے اخلاص اور عظیم شخصیت نے انہیں آج عاشقانِ اہلِ بیتؑ کے دلوں میں اربعین کے اولین زائر کی حیثیت سے جگہ دی ہے اور اس سلسلے کو اس سال کے اربعین میں مزید قوت کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال اربعین کو امتِ مسلمہ کے اتحاد، عاشورا اور اربعین کی حقیقی روح کی ترویج، اور ملتِ ایران کی ایثار و شہادت سے رقم کی گئی تاریخ کے پیغام کے ساتھ منعقد ہونا چاہیے، جبکہ محاذِ مقاومت کے پیغام کو ایک عالمی فکر کے طور پر دنیا کے تمام آزاد انسانوں اور مستضعفین تک پہنچایا جائے۔

معاونِ ثقافتی و تبلیغی امور نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے عاشوراء کے پیغام کو زندہ رکھنے میں کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح اربعین، واقعۂ عاشورا کی روایت کا ذریعہ بنا، اسی طرح آج طالباتِ حوزہ کو حضرت زینبؑ کی سیرت کو نمونہ بناتے ہوئے محاذِ مقاومت کے اہم واقعات کی سچی راوی بننا چاہیے اور دشمن کے میڈیا کو حقائق کو مسخ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے تبلیغی سرگرمیوں میں قرآنی معارف سے استفادے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بالخصوص سورۂ فجر میں غور و فکر، ایمانی محاذ اور باطل کے محاذ کے تقابل اور غلط اندازوں کے نتائج کی وضاحت، اربعین کے مبلغین کے لیے اہم علمی و تبلیغی محور ثابت ہو سکتی ہے۔

محترمہ سارا طالبی نے بتایا کہ رہبرِ شہیدِ انقلاب اسلامی کی ۳۷ سالہ قیادت پر مشتمل ایک خصوصی مجموعہ فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں میں تیار کیا گیا ہے، جسے اربعین کے تبلیغی پروگراموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ انقلابِ اسلامی کے فکری، معرفتی اور تمدنی پہلوؤں کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حوزہ ہائے علمیہ (خواتین) میں کافی عرصہ پہلے سے مبلغات کی خصوصی تربیت اور ضروری مواد کی تیاری شروع کی جا چکی ہے، اور اربعین کے دوران مختلف مواکب اور ثقافتی مراکز میں طالبات کی اعزام کے لیے مکمل آمادگی موجود ہے تاکہ وہ تبلیغ اور ثقافتی خدمت کے میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے اربعین کی تشکیل اور اس کے تسلسل میں خواتین کے فیصلہ کن کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ متعدد ماہرین کے مطابق اگر خواتین کی فعال شرکت نہ ہوتی تو اربعین کا یہ عظیم اجتماع آج کی شکل اختیار نہ کر پاتا۔ لہٰذا ایک مؤثر تبلیغی، میڈیا اور بین الاقوامی تحریک کے لیے خواتین کی صلاحیتوں سے پہلے سے بڑھ کر استفادہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دشمن شکوک و شبہات پیدا کرکے اور حقائق کو مسخ کرکے مسلم اقوام اور محاذِ مقاومت کے عزم کو کمزور کرنا چاہتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مبلغین اور مبلغات کو مضبوط، مستند اور جدید علمی مواد فراہم کیا جائے، تاکہ وہ ان شبہات کا مؤثر جواب دے سکیں۔

آخر میں سارا طالبی نے رہبرِ معظم انقلاب کے اس مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکہ کو خطے سے نکل جانا چاہیے، کہا کہ مسلم اقوام کو یہ حقیقت سمجھانا ہوگی کہ استکباری طاقتوں پر انحصار نہ تو عزت دیتا ہے اور نہ ہی حقیقی امن، بلکہ اس نے خطے کے ممالک پر بھاری نقصانات مسلط کیے ہیں۔

ان کے مطابق، اربعین اس پیغام کو پوری امتِ مسلمہ تک پہنچانے اور گفتمانِ مقاومت کو مضبوط بنانے کا بہترین موقع ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha